احمد نگر کے مرکزِ صحت میں صفائی کے ناقص انتظامات,

احمد نگر کے مرکزِ صحت میں صفائی کے ناقص انتظامات
رورل ہیلتھ سنٹر احمد نگر Ú©Ùˆ پنجاب حکومت Ú©ÛŒ طرف سے چوبیس گھنٹے ڈلیوری کا درجہ دیا گیا ہے جس Ú©ÛŒ وجہ سے اس سنٹر پر خواتین Ú©Û’ امراض Ú©Û’ لیے ہر وقت عملہ موجود ہوتا ہے۔یہاں موجود سٹاف Ú©ÛŒ ڈیوٹی آٹھ آٹھ گھنٹے شفٹ Ú©ÛŒ طرز پر لگائی گئی ہے تاکہ عملہ پر بھی دباؤ نہ Ù¾Ú‘Û’Û” تاہم یہاں دوران ڈلیوری انسانی جسم سے نکلنے والے فاسد مواد Ú©Ùˆ تلف کرنے Ú©Û’ لیے کوئی انتظامات نہیں کیے گئے ہیں۔یاد رہے کہ ڈلیوری Ú©Û’ بعد نکلنے والے فاسد مواد Ú©Ùˆ زمین میں دباتے ہیں لیکن رورل ہیلتھ سنٹر احمد نگر میں اسے ایسے ہی باہر پھینک دیا جاتا ہے جو آوارہ کتوں Ú©ÛŒ خوراک بن رہا ہے اور اسی وجہ سے علاقے میں کتوں Ú©Û’ کاٹنے Ú©Û’ واقعات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جو کہ شہریوں Ú©Û’ لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ہسپتال عملہ میں تعینات ایک ملازم Ù†Û’ نام ظاہر نہ کرنے پر بتایا کہ یہاں Ú©Û’ ہی ایک ملازم Ù†Û’ کوارٹروں میں کتے رکھے ہوئے ہیں جن Ú©Ùˆ بھی یہ فاسد مادے کھلائے جاتے ہیں۔’دو خواتین ملازمین Ú©Ùˆ سرکاری طور پر یہ کوارٹرز دیے گئے تھے وہ بھی ان Ú©Û’ ڈر Ú©ÛŒ وجہ سے ہسپتال Ú©ÛŒ رہائش Ú†Ú¾ÙˆÚ‘ Ú†Ú©ÛŒ ہیں اور اب روزانہ Ú©ÛŒ بنیاد پر کئی کلومیٹر سفر کر Ú©Û’ یہاں آتی ہیں۔احمد نگر Ú©Û’ رہائشی بیالیس سالہ تنویر احمد کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین ماہ Ú©Û’ دوران پانچ افراد Ú©Ùˆ کتوں Ù†Û’ کاٹا ہے جس Ú©ÛŒ وجہ سے دو کتوں Ú©Ùˆ مقامی طور پر زہر بھی دیا گیا ہے۔ان Ú©Û’ مطابق آپریشن کا فاصد مادہ کتوں Ú©Ùˆ کھلائے جانے Ú©Û’ حوالے سے انہیں کوئی علم نہیں تاہم کتوں Ú©Û’ راہگیروں Ú©Û’ پیچھے بھاگنے اور انہیں کاٹنے Ú©Û’ واقعات ضرور ہوئے ہیں جس Ú©ÛŒ اطلاع Ù¹ÛŒ ایم اے Ú©Ùˆ بھی Ú©ÛŒ گئی لیکن ابھی تک کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔پچپن سالہ مصطفے باسط آکاش محلہ کوٹلی Ú©Û’ رہائشی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں آئے روز ہونے والی ڈلیوری Ú©Û’ دوران ایسے فاسد مادے نالیوں میں بہا دیے جاتے ہیں جو کسی نہ کسی جگہ رکے ہوتے ہیں تاہم اس سے یہ اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ یہ مواد کس چیز کا ہے۔ان Ú©Û’ مطابق محکمہ صحت Ú©Ùˆ چاہیے کہ وہ اس طرح Ú©Û’ مادے نالیوں میں بہانے والے کلینکس اور ہسپتالوں Ú©Û’ خلاف بھرپور کاروائی کرے۔انچارج رورل ہیلتھ سنٹر ڈاکٹر قمر بھٹی کا کہنا تھا کہ ہسپتال میں کوئی غیر قانونی کام نہیں ہوتا یہ واقعہ ہسپتال Ú©Ùˆ بدنام کرنے Ú©Û’ لیے رچایا گیا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں Ù†Û’ موقف اختیار کیا کہ گزشتہ پانچ دن سے ہسپتال میں کوئی ڈلیوری نہیں ہوئی اور یہ فاسد مادہ باہر سے منگوا کر ہسپتال میں پھینکا گیا ہے۔ Ù¹ÛŒ ایم او عمران سندھو کا کہنا ہے کہ انہیں دو دن قبل درخواست موصول ہوئی تھی جس Ú©ÛŒ روشنی میں انسانوں Ú©Ùˆ کاٹنے والے کتوں Ú©Ùˆ تلف کرنے Ú©Û’ لیے کہہ دیا ہے۔ان Ú©Û’ مطابق ضلع بھر میں جہاں بھی شکایت ملتی ہے وہاں ٹیم بھجوا کر فی الفور کاروائی Ú©ÛŒ جاتی ہے۔انہوں Ù†Û’ موقف اختیار کیا کہ ‘ایسے کلینکس اور ہسپتال جو اس طرح Ú©Û’ مادے پانی میں بہاتے ہیں انہیں یہ سب زمین میں دبانا چاہیے تاکہ بیماریاں نہ پھیلیں۔’ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مشتاق بشیر عاکف کا کہنا ہے کہ ہر دیہی مرکز صحت اور بنیادی مرکز صحت پر بلڈنگ Ú©Û’ پیچھے چار فٹ گہرا اور چوڑا گڑھا کھودا جاتا ہے جہاں ایسی جھلیاں اور دیگر اشیاء دبا دی جاتی ہیں۔ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اور تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں استعمال ہونے والا میٹیریل بوریوں میں بند کر Ú©Û’ فضل عمر ہسپتال بھجوایا جاتا ہے جن میں انجکشن، ڈرپ Ú©ÛŒ خالی بوتلیں اور کٹر وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔فضل عمر ہسپتال میں مشینری Ú©Û’ ذریعے ان Ú©Ùˆ ختم کر دیا جاتا ہے اس مشینری میں ہر چیز جلا دی جاتی ہے۔ڈاکٹر مشتاق بشیر عاکف کا کہنا تھا کہ پاکستان بھر میں جھلیاں اور دیگر سامان Ú©Ùˆ زمین میں دبایا جاتا ہے تاہم رورل ہیلتھ سنٹر پر ہونے والے واقعہ Ú©ÛŒ انکوائری شروع کر دی گئی ہے اور ذمہ داروں Ú©Û’ خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے Ú¯ÛŒ