چنیوٹ میں بیٹھے عطائی ڈاکٹروں سے عوام کو کتنا فائدہ ہے؟

محکمہ صحت سے لیے گئے اعداد Ùˆ شمار Ú©Û’ مطابق گزشتہ ماہ Ú©Û’ دوران محکمہ Ù†Û’ عطائی ڈاکٹروں Ú©Û’ خلاف کاروائی کرتے ہوئے نوے ڈاکٹروں Ú©Û’ چالان مکمل کر Ú©Û’ عدالت بھجوائے ہیں جبکہ ڈرگ انسپکٹروں Ú©Û’ ساتھ مل کر اکتیس میڈیکل سٹور اور کلینک سیل کیے گئے ہیں۔پچیس سالہ واصف علی چنیوٹ Ú©Û’ محلہ ترکھاناں Ú©Û’ رہائشی ہیں۔وہ بتاتے ہیں کہ ان Ú©Û’ بیٹے Ú©ÛŒ طبیعت خراب ہوئی تو وہ اسے محلہ میں موجود عطائی ڈاکٹر تنویر Ú©Û’ پاس Ù„Û’ گئے جس Ù†Û’ معمولی بخار کا بتا کہ دوائی دے دی اور ان Ú©Û’ بیٹے Ú©ÛŒ طبیعت Ú©Ú†Ú¾ بہتر ہوگئی۔’دوسرے دن میرے بیٹے Ú©ÛŒ طبیعت مزید خراب ہوگئی اور مجھے مجبوراً اسے ڈاکٹر عابد یاسین Ú©Û’ پاس Ù„Û’ جانا پڑا جس Ù†Û’ اسے نمونیا بتایا اور اس کا ٹھیک طریقے سے علاج کا مشور دیا۔’واصف علی کا کہنا ہے کہ ہم مزدور لوگ ہیں ایم بی بی ایس ڈاکٹر Ú©ÛŒ فیس نہیں بھر سکتے اس لیے محلے میں موجود عطائی ڈاکٹر سے ہی علاج کروانے پر مجبور ہیں تاہم بچوں Ú©ÛŒ طبیعت زیادہ خراب ہونے Ú©ÛŒ صورت میں اچھے ڈاکٹر Ú©Û’ پاس ہی جانا پڑتا ہے۔چالیس سالہ نواز چنیوٹ Ú©Û’ موضع طالب Ú©Û’ رہائشی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ Ú©Ú†Ú¾ عرصہ قبل ان Ú©ÛŒ طبیعت خراب ہوئی تو بھوآنہ Ú©Û’ قریب ایک ڈاکٹر Ú©Û’ پاس Ú†Ù„Û’ گئے جس Ù†Û’ کلینک Ú©Û’ باہر بورڈ کسی اور ڈاکٹر کا لگا رکھا تھا۔’ڈاکٹر Ù†Û’ مجھے ٹیکہ لگا دیا جس سے میں سو گیا لیکن جب میری آنکھ Ú©Ú¾Ù„ÛŒ تو میرے بازو پر سوزش تھی اور وہ کام بھی نہیں کر رہا تھا۔وہ بتاتے ہیں کہ انہیں مجبورا علی ہسپتال میں موجود ڈاکٹر شوکت Ú©Û’ پاس جانا پڑا جہاں مسلسل تین دن تیرہ تیرہ سو روپے Ú©Û’ انجکشن استعمال کرنے Ú©Û’ بعد ان کا بازو ٹھیک ہوا۔کسان بورڈ Ú©Û’ چیئرمین سید نورالحسن شاہ کا کہنا ہے کہ Ú©Ú†Ú¾ دن کسی ڈاکٹر Ú©Û’ پاس کام کرنے Ú©Û’ بعد لوگ اپنا کلینک بنا لیتے ہیں اور غریب عوام ڈاکٹروں Ú©ÛŒ بھاری فیس سے بچنے Ú©Û’ لیے مجبورا ان عطائی ڈاکٹروں Ú©Û’ پاس پھنس جاتی ہے۔’عطائی ڈاکٹر کسی بھی بیماری Ú©ÛŒ ٹھیک تشخیص نہیں کر سکتے اس لیے لوگ ان Ú©Û’ ہاتھوں صحت یاب ہونے Ú©ÛŒ بجائے مزید بیمار ہو جاتے ہیں۔ان Ú©Û’ مطابق یہاں ہر گاؤں میں ایک نہ ایک کلینک بنا ہوا ہے جن Ú©Û’ پاس کسی بھی قسم Ú©ÛŒ کوئی ڈگری نہیں ہے۔جھمرہ روڈ پر واقع کلینک پر موجود ڈسپنسر ناصر علی کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ Ù†Û’ ڈسپنسروں Ú©Ùˆ پریکٹس Ú©ÛŒ اجازت دی ہے جس Ú©Û’ بارے میں مکمل طور پر اخبارات میں خبریں Ø¢ Ú†Ú©ÛŒ ہیں۔’ایم بی بی ایس ڈاکٹرز عوام سے تین سے چار سو روپے فیس Ú©ÛŒ مد میں وصول کر رہے ہیں جبکہ ہم سو روپے میں دوائی بھی دے دیتے ہیں۔’انہوں Ù†Û’ موٗقف اختیار کیا کہ دراصل ڈاکٹرز لوٹ مار میں مصروف ہیں اور ان Ú©ÛŒ نظر کسی Ú©ÛŒ صحت پر نہیں بلکہ اس Ú©ÛŒ جیب پر مرکوز ہے۔وہ بتاتے ہیں کہ محکمہ صحت Ú©Û’ ملازمی ان Ú©Û’ کلینک پر چھاپے مارتے ہیں لیکن اگر انہیں رشوت مل جائے تو وہ کوئی کاروائی نہیں کرتے۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مشتاق بشیر عاکف کا کہنا ہے کہ دیسی اور ہومیو پیتھک ادویات میں ایلوپیتھک کا استعمال کرنے والے اور بغیر ڈگریوں Ú©Û’ کلینک چلانے والوں Ú©Ùˆ کسی صورت نہیں بخشا جائے گا۔انہوں Ù†Û’ موٗقف اختیار کیاکہ تحصیل چنیوٹ میں ڈرگ انسپکٹر Ú©ÛŒ پوسٹ خالی ہے جس وجہ سے ابھی یہاں کاروائی روکی ہوئی ہے تاہم جیسے ہی یہاں کوئی تعیناتی عمل میں لائی جائے Ú¯ÛŒ تو غیر قانونی کلینک سیل کرنے کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔