غیر معیاری شوارما کی فروخت روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟

چنیوٹ شہر Ú©Û’ مختلف علاقوں میں اس وقت پچاس Ú©Û’ قریب شوارما سٹالز موجود ہیں جہاں سے شہری بہت شوق سے اسے خرید کر کھاتے ہیں۔ان تمام جگہوں پر کھانے Ú©Û’ معیار Ú©Ùˆ جانچنے Ú©Û’ لیے محکمہ صحت Ú©ÛŒ جانب سے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ جس Ú©ÛŒ وجہ سے شہری یہ جاننے سے قاصر ہیں کہ یہاں کس معیار کا گوشت اور مصالحے استعمال ہو رہے ہیں۔چالیس سالہ تحریم چنیوٹ Ú©Û’ نواحی علاقہ رجوعہ Ú©ÛŒ رہائشی ہیں اور اپنی بیٹی Ú©Û’ لیے شوارما خرید رہی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان Ú©ÛŒ بیٹی سیکنڈ ایئر Ú©ÛŒ طالبہ ہیں اور اسے شوارما کھانے کا بہت شوق ہے۔’چنیوٹ جھمرہ Ú†ÙˆÚ© میں دس Ú©Û’ قریب مختلف سٹال Ù„Ú¯Û’ ہوئے ہیں جہاں پچاس سے ڈیڑھ سو روپے تک مختلف قسم Ú©Û’ شوارمے ملتے ہیں اور میں اپنی بیٹی Ú©Û’ لیے روزانہ شوارما Ù„Û’ کر جاتی ہوں۔’ان کا کہنا تھا کہ رجوعہ میں بھی شوارما Ú©Û’ سٹالز موجود ہے لیکن دو تین دفعہ مختلف سٹالز سے خریداری کرنے پر ان Ú©Û’ گوشت سے بدبو محسوس ہوئی جس پر شوارما بھی ضائع کرنا پڑا۔’بدبو Ú©ÛŒ شکایت جب ان شوارما سٹال مالکان سے Ú©ÛŒ تو الٹا ان Ú©ÛŒ باتیں سننے Ú©Ùˆ ملیں اس لیے اب ایک مخصوص دوکان سے شوارما خریدتی ہوں اور ساٹھ روپے والے اس شوارمے کا ذائقہ بھی ٹھیک ہوتا ہے۔’پینتیس سالہ مجاہد علی Ù¹Ú¾Ù¹Ú¾ÛŒ موچیاں Ú©Û’ رہائشی ہیں ان کا کہنا تھا کہ انہیں بھی شورما کھانے کا شوق ہے اور ان سٹالز پر شام Ú©Ùˆ ہی رش شروع ہوتا ہے۔’پہلے میں رجوعہ Ú†ÙˆÚ© سے ہی شوارما خرید کر کھاتا تھا لیکن ایک دو دفعہ مجھے گوشت بدبودار لگا تو میرے پوچھنے پر بتایا گیا کہ جناب اس پر مصالحے Ù„Ú¯Û’ ہوئے ہیں اس لیے ایسی خوشبو ہے۔’وہ بتاتے ہیں کہ ایک دن گزشتہ روز کا بچ جانے والا گوشت بنایا جا رہا تھا جس Ú©Û’ بعد میں Ù†Û’ اس سٹال سے شوارما خریدنا Ú†Ú¾ÙˆÚ‘ دیا کیونکہ ان Ú©Ùˆ پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔بیس سالہ محمد زوہیب گڑھا Ú†ÙˆÚ© میں روزانہ شام Ú©Ùˆ شوارما کا سٹال لگاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چنیوٹ دیگر علاقوں سے بہت بہتر ہے تاہم پچاس روپے تک شوارما Ú©ÛŒ قیمت بہت Ú©Ù… ہے جس پر دوکاندار Ú©Ùˆ کوئی منافع نہیں ہوتا اس لیے وہ غیر معیاری چیزیں استعمال کرنا زروع کر دیتے ہیں۔’بعض دوکاندار بچت Ú©Û’ لالچ میں بیمار مرغیوں کا سستا گوشت خرید کر شوارما بنانے میں استعمال کرلیتے ہیں جس سے انہیں مالی فائدہ تو ہو جاتا ہے لیکن گاہک Ú©ÛŒ صحت اس سے متاثر ہوتی ہے۔’ ان Ú©Û’ مطابق ‘یہ دوکانیں شام Ú©Û’ وقت کھلتی ہیں اور اس وقت تمام سرکاری ادارے Ú†Ú¾Ù¹ÛŒ کر Ú†Ú©Û’ ہوتے ہیں اس لیے معیار کا معائنہ کرنے Ú©Û’ لیے کوئی ٹیم نہیں آتی جس Ú©ÛŒ وجہ سے دوکاندار ہر چیز آسانی سے بیچ لیتے ہیں۔’ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مشتاق بشیر عاکف کا کہنا تھا کہ یہ بات درست ہے کہ محکمہ Ú©Û’ فوڈ انسپکٹروں میں بعض غفلت Ú©Û’ مرتکب ہیں تاہم انہوں Ù†Û’ خود سات شوارما سٹالوں Ú©Ùˆ جرمانے کرتے ہوئے ان کا سامان تلف کیا ہے۔’یہ کام شام میں شروع ہونے Ú©ÛŒ وجہ سے محکمہ کا عملہ کوتاہی برت جاتا ہے تاہم Ù¹ÛŒ ایم اے Ú©Ùˆ بھی اس پر کام کرنا چاہیے ہر بات محکمہ صحت پر ڈال دینا درست نہیں۔’ وہ بتاتے ہیں کہ ناقص مصالحوں اور گوشت Ú©Û’ استعمال Ú©ÛŒ وجہ سے بیماریاں پھیلتی ہیں اس لیے لائیو سٹاک عملہ Ú©Ùˆ چاہیے کہ وہ شوارما سٹالوں پر استعمال ہونے والے گوشت Ú©Ùˆ چیک کرے کیونکہ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ زیادہ سے زیادہ صرف نمونہ جات لیبارٹری Ú©Û’ لیے بھیج سکتا ہے۔ڈسٹرکٹ لائیو سٹاک آفیسر ڈاکٹر سجاد کا کہنا ہے کہ ابھی تک انہوں Ù†Û’ شوارما سٹالوں پر کوئی کاروائی نہیں Ú©ÛŒ ہے کیونکہ کھانے Ú©ÛŒ اشیاء ہونے Ú©ÛŒ وجہ سے اس Ú©ÛŒ ذمہ داری محکمہ صحت پر ہے۔’تمام سٹالوں پر موجود گوشت ذبح ہونے Ú©Û’ بعد کا ہوتا ہے جس پر مختلف مصالحے Ù„Ú¯Û’ ہوتے ہیں ایسے میں ہم یہ نہیں دیکھ سکتے کہ یہ گوشت بیمار جانور کا تھا یا صحت مند کا۔’انہوں Ù†Û’ مؤقف اختیار کیا کہ ان Ú©Û’ ڈاکٹر اور عملہ پولٹری فارم اور دوکانوں کا معائیہ کرتے رہتے ہیں اور غیر معیاری اشیاء رکھنے والوں Ú©Û’ خلاف قانونی کاروائی Ú©ÛŒ جاتی ہے تاہم ابھی تک شوارما دوکانوں Ú©Û’ خلاف کسی بھی قسم Ú©ÛŒ کوئی کاروائی نہیں Ú©ÛŒ گئی۔