What you need to know about Pakistan’s New Cyber-Crime Law

What you need to know about Pakistan’s New Cyber-Crime Law

The  Cyber Crime bill passed by the National Assembly with only 9% of its 342 members is now a law. The bill which has been termed Draconian by almost every other Public media outlet has some extremely upsetting features that if allowed to be implemented will be nothing short of a calamity for the nation of Pakistan and its people. Particularly the younger, social media generation.

The act which has been given the title of the ‘Prevention of Electronic Crimes Act 2015’ provides legal mechanisms for the investigation, prosecution, trial and international cooperation of crimes in connection with information systems.

The bill extends to the whole of Pakistan and will be applicable to every Pakistani citizen both residing in and outside of Pakistan. The bill also grants extraterritorial jurisdiction to crimes in relation to information systems which either directly or indirectly affect persons or information systems within the territorial jurisdiction of Pakistan. The act shall come into force at once.


How it will affect you:

1. If you now post something on facebook that is critical of religion especially if it is critical of Islam or against the glory of Islam in any way that the government deems so, then prepare to face the law.

2. Any such content will also be removed, destroyed or blocked.

3. You cannot post anything that, in the eyes of the government is harming the dignity of a natural person then that means you can say goodbye to critical thinking and freedom of expression.

4. You cannot now share any video which the government finds to be vulgar or in any way inappropriate. So say adios to fun and privacy.

5. If you decide to share a picture of your teacher sleeping in class. And he decides to report you then good grades will be the least of your problems. Moreover, you cannot share pictures or videos of anyone without their consent. So that selfie with your favorite actor may put you in jail.

6. If you decide to prank your school teacher by emailing him a virus. Then being caught by the principle will not matter, as you will be too busy in court pleading your case.

7. If you think you’ve found the facebook id of your childhood crush then prepare to fantasize about him/her behind bars.

8. Watching questionable material online without the government watching you is now out of the question. And if you get caught prepare to have your history searched thoroughly and have all your privacy crumpled.

9. It should also be noted that the sharing of such content is also illegal.

10. Moreover, if you think you’ve protected yourself by deleting your history or turning on incognito mode then don’t get your hopes high as the government now has access to a year’s worth of your internet history.

11. If you decide to criticize Saudi Arabia for its blasphemy laws then it will not be the Saudi government coming after you in their police Ferraris instead look forward to sitting in the notorious Police Dala.

12. You cannot now criticize even your own government but if you do prepare to find the law knocking on your door,

13. Maybe the scariest part of this ordeal is that an investigating officer has the right to enter your house without a warrant and make you give them your password and search through your computer or any device for that matter and if needed also seize any device he sees fit.

So in a way prepare to give a shoulder to the funeral of your freedom of speech, freedom of expression and your privacy. Pakistan is now one step closer to becoming the next North Korea. Press Finish to completely destroy the lives of your citizens.

غیر معیاری شوارما کی فروخت روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟

غیر معیاری شوارما کی فروخت روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟

چنیوٹ شہر Ú©Û’ مختلف علاقوں میں اس وقت پچاس Ú©Û’ قریب شوارما سٹالز موجود ہیں جہاں سے شہری بہت شوق سے اسے خرید کر کھاتے ہیں۔ان تمام جگہوں پر کھانے Ú©Û’ معیار Ú©Ùˆ جانچنے Ú©Û’ لیے محکمہ صحت Ú©ÛŒ جانب سے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ جس Ú©ÛŒ وجہ سے شہری یہ جاننے سے قاصر ہیں کہ یہاں کس معیار کا گوشت اور مصالحے استعمال ہو رہے ہیں۔چالیس سالہ تحریم چنیوٹ Ú©Û’ نواحی علاقہ رجوعہ Ú©ÛŒ رہائشی ہیں اور اپنی بیٹی Ú©Û’ لیے شوارما خرید رہی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان Ú©ÛŒ بیٹی سیکنڈ ایئر Ú©ÛŒ طالبہ ہیں اور اسے شوارما کھانے کا بہت شوق ہے۔’چنیوٹ جھمرہ Ú†ÙˆÚ© میں دس Ú©Û’ قریب مختلف سٹال Ù„Ú¯Û’ ہوئے ہیں جہاں پچاس سے ڈیڑھ سو روپے تک مختلف قسم Ú©Û’ شوارمے ملتے ہیں اور میں اپنی بیٹی Ú©Û’ لیے روزانہ شوارما Ù„Û’ کر جاتی ہوں۔’ان کا کہنا تھا کہ رجوعہ میں بھی شوارما Ú©Û’ سٹالز موجود ہے لیکن دو تین دفعہ مختلف سٹالز سے خریداری کرنے پر ان Ú©Û’ گوشت سے بدبو محسوس ہوئی جس پر شوارما بھی ضائع کرنا پڑا۔’بدبو Ú©ÛŒ شکایت جب ان شوارما سٹال مالکان سے Ú©ÛŒ تو الٹا ان Ú©ÛŒ باتیں سننے Ú©Ùˆ ملیں اس لیے اب ایک مخصوص دوکان سے شوارما خریدتی ہوں اور ساٹھ روپے والے اس شوارمے کا ذائقہ بھی ٹھیک ہوتا ہے۔’پینتیس سالہ مجاہد علی Ù¹Ú¾Ù¹Ú¾ÛŒ موچیاں Ú©Û’ رہائشی ہیں ان کا کہنا تھا کہ انہیں بھی شورما کھانے کا شوق ہے اور ان سٹالز پر شام Ú©Ùˆ ہی رش شروع ہوتا ہے۔’پہلے میں رجوعہ Ú†ÙˆÚ© سے ہی شوارما خرید کر کھاتا تھا لیکن ایک دو دفعہ مجھے گوشت بدبودار لگا تو میرے پوچھنے پر بتایا گیا کہ جناب اس پر مصالحے Ù„Ú¯Û’ ہوئے ہیں اس لیے ایسی خوشبو ہے۔’وہ بتاتے ہیں کہ ایک دن گزشتہ روز کا بچ جانے والا گوشت بنایا جا رہا تھا جس Ú©Û’ بعد میں Ù†Û’ اس سٹال سے شوارما خریدنا Ú†Ú¾ÙˆÚ‘ دیا کیونکہ ان Ú©Ùˆ پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔بیس سالہ محمد زوہیب گڑھا Ú†ÙˆÚ© میں روزانہ شام Ú©Ùˆ شوارما کا سٹال لگاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چنیوٹ دیگر علاقوں سے بہت بہتر ہے تاہم پچاس روپے تک شوارما Ú©ÛŒ قیمت بہت Ú©Ù… ہے جس پر دوکاندار Ú©Ùˆ کوئی منافع نہیں ہوتا اس لیے وہ غیر معیاری چیزیں استعمال کرنا زروع کر دیتے ہیں۔’بعض دوکاندار بچت Ú©Û’ لالچ میں بیمار مرغیوں کا سستا گوشت خرید کر شوارما بنانے میں استعمال کرلیتے ہیں جس سے انہیں مالی فائدہ تو ہو جاتا ہے لیکن گاہک Ú©ÛŒ صحت اس سے متاثر ہوتی ہے۔’ ان Ú©Û’ مطابق ‘یہ دوکانیں شام Ú©Û’ وقت کھلتی ہیں اور اس وقت تمام سرکاری ادارے Ú†Ú¾Ù¹ÛŒ کر Ú†Ú©Û’ ہوتے ہیں اس لیے معیار کا معائنہ کرنے Ú©Û’ لیے کوئی ٹیم نہیں آتی جس Ú©ÛŒ وجہ سے دوکاندار ہر چیز آسانی سے بیچ لیتے ہیں۔’ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مشتاق بشیر عاکف کا کہنا تھا کہ یہ بات درست ہے کہ محکمہ Ú©Û’ فوڈ انسپکٹروں میں بعض غفلت Ú©Û’ مرتکب ہیں تاہم انہوں Ù†Û’ خود سات شوارما سٹالوں Ú©Ùˆ جرمانے کرتے ہوئے ان کا سامان تلف کیا ہے۔’یہ کام شام میں شروع ہونے Ú©ÛŒ وجہ سے محکمہ کا عملہ کوتاہی برت جاتا ہے تاہم Ù¹ÛŒ ایم اے Ú©Ùˆ بھی اس پر کام کرنا چاہیے ہر بات محکمہ صحت پر ڈال دینا درست نہیں۔’ وہ بتاتے ہیں کہ ناقص مصالحوں اور گوشت Ú©Û’ استعمال Ú©ÛŒ وجہ سے بیماریاں پھیلتی ہیں اس لیے لائیو سٹاک عملہ Ú©Ùˆ چاہیے کہ وہ شوارما سٹالوں پر استعمال ہونے والے گوشت Ú©Ùˆ چیک کرے کیونکہ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ زیادہ سے زیادہ صرف نمونہ جات لیبارٹری Ú©Û’ لیے بھیج سکتا ہے۔ڈسٹرکٹ لائیو سٹاک آفیسر ڈاکٹر سجاد کا کہنا ہے کہ ابھی تک انہوں Ù†Û’ شوارما سٹالوں پر کوئی کاروائی نہیں Ú©ÛŒ ہے کیونکہ کھانے Ú©ÛŒ اشیاء ہونے Ú©ÛŒ وجہ سے اس Ú©ÛŒ ذمہ داری محکمہ صحت پر ہے۔’تمام سٹالوں پر موجود گوشت ذبح ہونے Ú©Û’ بعد کا ہوتا ہے جس پر مختلف مصالحے Ù„Ú¯Û’ ہوتے ہیں ایسے میں ہم یہ نہیں دیکھ سکتے کہ یہ گوشت بیمار جانور کا تھا یا صحت مند کا۔’انہوں Ù†Û’ مؤقف اختیار کیا کہ ان Ú©Û’ ڈاکٹر اور عملہ پولٹری فارم اور دوکانوں کا معائیہ کرتے رہتے ہیں اور غیر معیاری اشیاء رکھنے والوں Ú©Û’ خلاف قانونی کاروائی Ú©ÛŒ جاتی ہے تاہم ابھی تک شوارما دوکانوں Ú©Û’ خلاف کسی بھی قسم Ú©ÛŒ کوئی کاروائی نہیں Ú©ÛŒ گئی۔

چنیوٹ میں مقیم گونگی بہری لڑکی کو پیاروں کی تلاش

چنیوٹ میں مقیم گونگی بہری لڑکی کو پیاروں کی تلاش

چنیوٹ Ú©ÛŒ تحصیل لالیاں Ú©Û’ لاری اڈہ سے ایک سال قبل پولیس Ù†Û’ تقریباً سولہ سال Ú©ÛŒ ایک لاوارث Ù„Ú‘Ú©ÛŒ Ú©Ùˆ اپنی تحویل میں لیا جو قوتِ سماعت اور گویائی دونوں سے محروم تھی۔ابتداء میں پولیس Ú©ÛŒ جانب سے اس Ù„Ú‘Ú©ÛŒ Ú©Û’ لواحقین Ú©Ùˆ ڈھونڈنے Ú©ÛŒ کوشش Ú©ÛŒ گئی لیکن وہ نہ مل سکے جس پر عدالت Ù†Û’ اسے دارالامان منتقل کرنے کا حُکم دیا اور یہ اب گزشتہ ایک سال سے وہیں رہائش پذیر ہے۔اس Ù„Ú‘Ú©ÛŒ Ú©Ùˆ اپنا نام اور رہائشی پتہ تو نہیں معلوم لیکن وہ اشاروں سے اپنے خاندان اور گھر Ú©Û’ بارے میں بتانے Ú©ÛŒ کوشش ضرور کرتی ہے۔اس Ú©Û’ ایک ہاتھ Ú©ÛŒ انگلیاں بھی Ú©Ù¹ÛŒ ہوئی ہیں جس Ú©Û’ بارے میں وہ اشاروں سے بتاتی ہے کہ یہ چارہ کاٹنے والی مشین میں آکر Ú©Ù¹ÛŒ تھیں۔دارالامان میں تعینات ماہر نفسیات سحرش فاروق کا کہنا ہے کہ اس Ù„Ú‘Ú©ÛŒ Ù†Û’ اپنی محبت سے ہر کسی Ú©Û’ دل میں جگہ بنا Ù„ÛŒ ہے کیونکہ انتظامیہ ہو یا یہاں بسنے والی دیگر خواتین یہ سب Ú©Û’ ساتھ انتہائی خوش دلی سے پیش آتی ہے۔’اس Ù„Ú‘Ú©ÛŒ Ú©Ùˆ نہ تو اپنا نام معلوم ہے اور نہ گھر کا پتہ مگر ماں باپ Ú©ÛŒ محبت اور بہن بھائیوں سے ملنے Ú©ÛŒ خواہش ہر وقت اس Ú©ÛŒ آنکھوں میں جھلکتی رہتی ہے۔’فرخ رضوان ڈسٹرکٹ آفیسر سوشل ویلفیئر چنیوٹ تعینات ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اب جوں جوں وقت گُزرتا جا رہا ہے یہ Ù„Ú‘Ú©ÛŒ اپنے گھر والوں Ú©Ùˆ زیادہ شدت سے یاد کر رہی ہے اور اس Ú©ÛŒ خواہش ہے کہ کسی نہ کسی طرح اپنے پیاروں تک پہنچ جائے۔’ہمارے اس ادارے میں تعینات ہونے والی ماہر نفسیات سحرش فاروق اس Ú©Û’ ساتھ بہت وقت گزار رہی ہیں اور یہ Ù„Ú‘Ú©ÛŒ اشاروں میں ان سے اپنی خواہشات کا اظہار کرتی ہے۔ اس Ù†Û’ بتایا ہے کہ اس Ú©ÛŒ دو بہنیں اور ایک بھائی ہے جبکہ اس Ú©Û’ والد Ù†Û’ داڑھی رکھی ہوئی ہے اور اس Ú©ÛŒ ماں کسی Ú©Û’ گھر میں کام کرتی ہے۔’اُن کا مزید کہنا تھا کہ ‘اس Ù„Ú‘Ú©ÛŒ Ù†Û’ دارالامان میں Ù„Ú¯ÛŒ تصویروں میں سے کھیتوں Ú©ÛŒ تصویریں دیکھ کر اپنا گھر کسی ایسی جگہ ہونے Ú©ÛŒ نشاندہی Ú©ÛŒ ہے۔’ سماجی تنظیم انجمن شہریاں چنیوٹ Ú©ÛŒ کارکن صائمہ ظفر کا کہنا ہے کہ محکمہ سوشل ویلفیئر اور چنیوٹ پولیس کافی کوشش Ú©Û’ باوجود اس Ú©Û’ لواحقین Ú©Ùˆ ڈھونڈنے میں ناکام رہی ہے۔’اب ہماری تنظیم Ú©Û’ صدر حاجی رضوان الحق چوہان Ù†Û’ ہمیں ہدایت Ú©ÛŒ ہے کہ محکمہ سوشل ویلفیئر اور دارالامان انتظامیہ Ú©Û’ ساتھ مل کر اس Ú©Ùˆ اس Ú©Û’ گھر والوں سے ملوانے Ú©ÛŒ بھرپور کوشش Ú©ÛŒ جائے۔’انہوں Ù†Û’ موقف اختیار کیا کہ اس سلسلہ میں باقاعدہ میڈیا مہم بھی شروع Ú©ÛŒ جا رہی ہے تاکہ جلد از جلد اس Ù„Ú‘Ú©ÛŒ Ú©Ùˆ اس Ú©Û’ گھر والوں سے ملوایا جا سکے۔نوٹ:اگر کوئی شہری اس Ù„Ú‘Ú©ÛŒ Ú©Û’ والدین یا رشتہ داروں Ú©Û’ بارے کسی بھی طرح Ú©ÛŒ معلومات رکھتا ہو تو وہ چنیوٹ Ú©Û’ محکمہ سوشل ویلفئیر Ú©ÛŒ انتظامیہ سے 03006500858 پر رابطہ کر سکتا ہے۔

سو سال پرانا گورنمنٹ ہائی سکول ٹاہلی منگینی سہولیات کا منتظر

سو سال پرانا گورنمنٹ ہائی سکول ٹاہلی منگینی سہولیات کا منتظر

چنیوٹ Ú©ÛŒ تحصیل بھوآنہ Ú©Û’ نواح میں بیالیس کنال رقبہ پر قائم گورنمنٹ ہائی سکول ٹاہلی منگینی ایک تاریخی درسگاہ ہے جو اپنے قیام Ú©Û’ سو سال پورے کر Ú†Ú©ÛŒ ہے۔نوے سالہ سید نذر حسین شاہ سکول Ú©ÛŒ تاریخ Ú©Û’ بارے میں بتاتے ہیں کہ مارچ 1916Ø¡ میں اس وقت Ú©ÛŒ بااثر شخصیات حاجی محمود خان چدھڑ، بہادر خان چدھڑ، بھائی خان چدھڑ اور دیگر معززین Ù†Û’ یہاں ایک سایہ دار جگہ بنا کر علاقے Ú©Û’ بچوں Ú©ÛŒ تعلیم Ùˆ تربیت Ú©Û’ لیے ایک پرائمری سکول Ú©ÛŒ بنیاد رکھی تھی سی فو Ù¹ÛŒ سیون نیوز ۔سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ سکول دو دیہات ٹاہلی رنگ شاہ اور منگینی Ú©Û’ درمیان واقع ہے اس لیے اسے ٹاہلی منگینی سکول کہا جاتا ہے۔ان Ú©Û’ مطابق ‘قیام پاکستان Ú©Û’ بعد 1974Ø¡ میں اس سکول Ú©Ùˆ Ù…ÚˆÙ„ اور پھر اس Ú©ÛŒ بہترین کارکردگی Ú©Û’ باعث 1984Ø¡ میں اسے ہائی سکول کا درجہ دے دیا گیا تھا۔’سید محمد علی شاہ ٹاہلی Ú©Û’ رہائشی ہیں جو سکول Ú©Û’ سابق طالب علم ہونے Ú©Û’ ساتھ ساتھ یہاں بطور استاد بھی فرایض سرانجام دے Ú†Ú©Û’ ہیں۔ان Ú©Û’ بقول ‘اس سکول Ú©ÛŒ نمایاں کارکردگی میں محنتی اور دیانت دار اساتذہ کا بہت عمل دخل رہا ہے اور یہاں سے فارغ ہونے والے طلباء بھی یہاں پر اساتذہ Ú©ÛŒ صورت میں اپنی خدمات پیش کرتے رہے ہیں جن میں سے ایک میں خود بھی ہوں۔’انھوں Ù†Û’ بتایا کہ کہ ٹاہلی منگینی دونوں ہی پرانی آبادیاں ہیں جہاں پر سادات اور چدھڑ برادری کا عمل دخل ہمیشہ زیادہ رہا ہے جبکہ سکول کا تعلیمی ریکارڈ ہمیشہ ہی شاندار رہا ہے۔’اس سال کلاس نہم Ú©Û’ بورڈ امتحانات میں سکول Ú©Û’ طالب علم طاہر عباس Ù†Û’ 488 نمبر Ù„Û’ کر ضلع بھر میں پہلی پوزیشن حاصل Ú©ÛŒ ہے جن Ú©ÛŒ حوصلہ افزائی Ú©Û’ لیے انعام بھی دیا گیا ہے۔’حافظ محمود اصغر سکول میں کلاس نہم Ú©Û’ انچارج ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سکول میں اس وقت ساڑھے سات سو سے زائد طلباء زیر تعلیم ہیں جبکہ اس Ú©ÛŒ عمارت چودہ کمروں پر مشتمل ہے لیکن یہاں سہولیات بہت Ú©Ù… ہیں۔’سکول میں کمروں Ú©ÛŒ تعداد بہت Ú©Ù… ہے اور جو ہیں ان میں سے بھی زیادہ تر خستہ حالی کا شکار ہیں اس Ú©Û’ علاوہ سٹاف Ú©ÛŒ Ú©Ù…ÛŒ اور سائنس لیب نہ ہونے Ú©Û’ باعث قیمتی سامان الماریوں میں پڑا ضائع ہو رہا ہے۔’وہ بتاتے ہیں کہ سکول میں لائبریری Ú©ÛŒ سہولت نہ ہونے Ú©ÛŒ وجہ سے دوہزار بہترین کتب خراب ہونے کا خدشہ ہے۔’کمروں Ú©ÛŒ Ú©Ù…ÛŒ اور خستہ حالی Ú©ÛŒ وجہ سے دوران بارش پرائمری درجہ Ú©Û’ طلباء Ú©Ùˆ Ú©Ú¾Ù„Û’ آسمان Ú©Û’ نیچے ہی بیٹھنا پڑتا ہے جو کہ انتہائی پریشانی کا باعث ہے۔’ان Ú©Û’ مطابق سکول میں اس وقت Ú©Ù„ انیس اساتذہ تدریس Ú©Û’ فرائض سر اجنام دے رہے ہیں جن میں سے چار ہائی ØŒ سات Ù…ÚˆÙ„ اور آٹھ پرائمری حصہ میں تعینات ہیں لیکن پرائمری حصہ میں ابھی بھی پانچ مزید اساتذہ Ú©ÛŒ ضرورت ہے۔سینیئر ٹیچر حق نواز اس سکول میں گزشتہ پچیس سال سے پڑھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں سے چار نسلیں تربیت حاصل کر Ú†Ú©ÛŒ ہیں جن میں بہت سے بڑے نام شامل ہیں لیکن ان تمام طالبعلموں کا ریکارڈ سکول Ú©Û’ پاس موجود نہیں ہے۔’اس سکول سے تعلیم حاصل کرنے والوں میں بہت سے سیاسی Ùˆ سماجی اور مذہبی لوگ شامل ہیں اس Ú©Û’ علاوہ موجودہ دور میں بھی اس سکول سے فارغ التحصیل بہت سے لوگ مختلف یونیورسٹیوں میں Ù¾ÛŒ ایچ ÚˆÛŒ Ú©ÛŒ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔’مہر محمد ثقلین انور ایم Ù¾ÛŒ اے Ùˆ صوبائی پارلیمانی سیکریٹری برائے مذہبی امور ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک قدیم سکول ہے اور اس Ú©ÛŒ حالت زار Ú©Û’ بارے میں انہیں پتا چلا ہے۔ان Ú©Û’ مطابق وہ اس ادارے Ú©Û’ مسائل Ú©Ùˆ حل کرنے Ú©ÛŒ بھرپور کوشش کریں Ú¯Û’ تاکہ یہ قدیم ادارہ مستقبل میں بھی اسی طرح اپنے فرائض احسن طریقے سے ادا کرتا رہے۔

عارضی مویشی منڈی میں سہولیات نہ ہونے سے بیوپاری پریشان

عارضی مویشی منڈی میں سہولیات نہ ہونے سے بیوپاری پریشان

جھمرہ روڈ Ú†ÙˆÚ© چنیوٹ میں عیدالاضحی Ú©Û’ لیے بنائی گئی عارضی مویشی منڈی میں بنیادی سہولیات دستیاب نہ ہونے Ú©ÛŒ وجہ سے بیوپاری اور شہری پریشانی میں مبتلا ہیں۔منڈی میں انتظامیہ Ú©ÛŒ طرف سے کوئی سایہ دار جگہ نہیں رکھی گئی جس Ú©ÛŒ وجہ سے شدید گرمی میں سارا دن Ú©Ú¾Ù„Û’ آسمان Ú©Û’ نیچے رہنے سے مویشی بیمار ہونے کا خدشہ ہے۔واضح رہے کہ ضلع چنیوٹ میں دو مقامات پر مویشی منڈی لگائی جاتی تھی لیکن تقریبا دس دن قبل ان منڈیوں Ú©Ùˆ ختم کرتے ہوئے یہاں تعینات عملے Ú©Ùˆ فیصل آباد منتقل کر دیا گیا جس Ú©ÛŒ وجہ سے بیوپاریوں اور مقامی شہریوں Ú©Ùˆ شدید مشکلات کا سامنا ہے۔محمد ابراہیم سرگودھا Ú©Û’ رہائشی ہیں اور پندرہ بھیڑیں Ù„Û’ کر چنیوٹ Ú©ÛŒ عارضی مویشی منڈی میں آئے ہیں۔منڈی میں سی فوٹی سیون نیوز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہاں سے منڈی فیصل آباد شفٹ کر دی گئی ہے جس Ú©ÛŒ وجہ سے عید Ú©Û’ لیے لگائی گئی اس عارضی منڈی پر انتظامیہ Ú©ÛŒ کوئی توجہ نہیں ہے۔’یہاں سایہ فراہم کرنے Ú©Û’ لیے کوئی انتظامات نہیں کیے گئے بلکہ ایک کھلا میدان منتخب کر Ú©Û’ یہاں مویشی فروخت کرنے Ú©ÛŒ اجازت دے دی گئی ہے۔’وہ بتاتے ہیں کہ انہیں قناعتوں سے Ù„Û’ کر مویشیوں Ú©Û’ چارے تک کا انتظام خود کرنا Ù¾Ú‘ رہا ہے اور وہ یہ سب اخراجات مویشیوں Ú©ÛŒ قیمت بڑھا کر ہی پورے کر سکتے ہیں۔لطیف احمد چنیوٹ Ú©ÛŒ تحصیل بھوآنہ Ú©Û’ رہائشی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ یہاں پندرہ بکرے Ù„Û’ کر آئے تھے لیکن یہاں نامکمل انتظامات اور سہولیات Ú©ÛŒ Ú©Ù…ÛŒ Ú©ÛŒ وجہ سے تین Ú©Ùˆ بیمار ہو جانے Ú©ÛŒ وجہ سے واپس بھیجنا Ù¾Ú‘ گیا ہے۔’یہاں سائے کا انتظام نہ ہونے Ú©ÛŒ وجہ سے شدید گرمی Ù†Û’ مویشیوں Ú©Ùˆ بے حال کر دیا ہے اس لیے انتظامیہ Ú©Ùˆ چاہیے تھا کہ یہاں سائے اور پینے Ú©Û’ لیے پانی کا انتظام کرے جبکہ دن میں دو سے تین دفعہ دھول مٹی سے بچاوٗ Ú©Û’ لیے پانی کا چھڑکاؤ بھی کیا جائے۔’عبدالحنان چنیوٹ Ú©Û’ نواحی محلہ ترکھاناں Ú©Û’ رہائشی ہیں اور منڈی میں تین بیل فروخت Ú©Û’ لیے لائے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سارا سال اس امید پر مویشی پالے تھے کہ اب ان Ú©ÛŒ اچھی قیمت مل جائے Ú¯ÛŒ لیکن یہاں لاتے ہی ان میں سے ایک بیمار ہو گیا ہے اور اس گرمی میں سائے کا کوئی انتظام نہ ہونے Ú©ÛŒ وجہ سے دوسروں کا بھی بیمار ہونے کا خدشہ ہے۔’اس منڈی میں مویشیوں Ú©Û’ لیے پانی تک کا انتظام نہیں کیا گیا جس Ú©ÛŒ وجہ سے ہمیں تین کلومیٹر دور سے پانی لانا Ù¾Ú‘ رہا ہے۔ شہر میں موجود مویشی منڈی میں یہ سب انتظامات تھے نہ جانے اسے کیوں ختم کر دیا گیا ہے۔’عمران اصغر سندھو تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریٹر چنیوٹ تعینات ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ مویشی منڈی میں عوام Ú©Ùˆ درپیش مشکلات سے آگاہ ہیں اور ان Ú©Ùˆ حل کرنے Ú©Û’ لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ان Ú©Û’ مطابق مویشی منڈی فیصل آباد منتقل ہو جانے Ú©ÛŒ وجہ سے یہاں تھوڑا مسئلہ ضرور ہوا ہے لیکن جھمرہ روڈ پر جو عارضی مویشی منڈی لگائی گئی ہے وہاں Ú©Ù„ سے تمام بنیادی سہولیات دستیاب ہوں گی۔

چنیوٹ میں بیٹھے عطائی ڈاکٹروں سے عوام کو کتنا فائدہ ہے؟

چنیوٹ میں بیٹھے عطائی ڈاکٹروں سے عوام کو کتنا فائدہ ہے؟

محکمہ صحت سے لیے گئے اعداد Ùˆ شمار Ú©Û’ مطابق گزشتہ ماہ Ú©Û’ دوران محکمہ Ù†Û’ عطائی ڈاکٹروں Ú©Û’ خلاف کاروائی کرتے ہوئے نوے ڈاکٹروں Ú©Û’ چالان مکمل کر Ú©Û’ عدالت بھجوائے ہیں جبکہ ڈرگ انسپکٹروں Ú©Û’ ساتھ مل کر اکتیس میڈیکل سٹور اور کلینک سیل کیے گئے ہیں۔پچیس سالہ واصف علی چنیوٹ Ú©Û’ محلہ ترکھاناں Ú©Û’ رہائشی ہیں۔وہ بتاتے ہیں کہ ان Ú©Û’ بیٹے Ú©ÛŒ طبیعت خراب ہوئی تو وہ اسے محلہ میں موجود عطائی ڈاکٹر تنویر Ú©Û’ پاس Ù„Û’ گئے جس Ù†Û’ معمولی بخار کا بتا کہ دوائی دے دی اور ان Ú©Û’ بیٹے Ú©ÛŒ طبیعت Ú©Ú†Ú¾ بہتر ہوگئی۔’دوسرے دن میرے بیٹے Ú©ÛŒ طبیعت مزید خراب ہوگئی اور مجھے مجبوراً اسے ڈاکٹر عابد یاسین Ú©Û’ پاس Ù„Û’ جانا پڑا جس Ù†Û’ اسے نمونیا بتایا اور اس کا ٹھیک طریقے سے علاج کا مشور دیا۔’واصف علی کا کہنا ہے کہ ہم مزدور لوگ ہیں ایم بی بی ایس ڈاکٹر Ú©ÛŒ فیس نہیں بھر سکتے اس لیے محلے میں موجود عطائی ڈاکٹر سے ہی علاج کروانے پر مجبور ہیں تاہم بچوں Ú©ÛŒ طبیعت زیادہ خراب ہونے Ú©ÛŒ صورت میں اچھے ڈاکٹر Ú©Û’ پاس ہی جانا پڑتا ہے۔چالیس سالہ نواز چنیوٹ Ú©Û’ موضع طالب Ú©Û’ رہائشی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ Ú©Ú†Ú¾ عرصہ قبل ان Ú©ÛŒ طبیعت خراب ہوئی تو بھوآنہ Ú©Û’ قریب ایک ڈاکٹر Ú©Û’ پاس Ú†Ù„Û’ گئے جس Ù†Û’ کلینک Ú©Û’ باہر بورڈ کسی اور ڈاکٹر کا لگا رکھا تھا۔’ڈاکٹر Ù†Û’ مجھے ٹیکہ لگا دیا جس سے میں سو گیا لیکن جب میری آنکھ Ú©Ú¾Ù„ÛŒ تو میرے بازو پر سوزش تھی اور وہ کام بھی نہیں کر رہا تھا۔وہ بتاتے ہیں کہ انہیں مجبورا علی ہسپتال میں موجود ڈاکٹر شوکت Ú©Û’ پاس جانا پڑا جہاں مسلسل تین دن تیرہ تیرہ سو روپے Ú©Û’ انجکشن استعمال کرنے Ú©Û’ بعد ان کا بازو ٹھیک ہوا۔کسان بورڈ Ú©Û’ چیئرمین سید نورالحسن شاہ کا کہنا ہے کہ Ú©Ú†Ú¾ دن کسی ڈاکٹر Ú©Û’ پاس کام کرنے Ú©Û’ بعد لوگ اپنا کلینک بنا لیتے ہیں اور غریب عوام ڈاکٹروں Ú©ÛŒ بھاری فیس سے بچنے Ú©Û’ لیے مجبورا ان عطائی ڈاکٹروں Ú©Û’ پاس پھنس جاتی ہے۔’عطائی ڈاکٹر کسی بھی بیماری Ú©ÛŒ ٹھیک تشخیص نہیں کر سکتے اس لیے لوگ ان Ú©Û’ ہاتھوں صحت یاب ہونے Ú©ÛŒ بجائے مزید بیمار ہو جاتے ہیں۔ان Ú©Û’ مطابق یہاں ہر گاؤں میں ایک نہ ایک کلینک بنا ہوا ہے جن Ú©Û’ پاس کسی بھی قسم Ú©ÛŒ کوئی ڈگری نہیں ہے۔جھمرہ روڈ پر واقع کلینک پر موجود ڈسپنسر ناصر علی کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ Ù†Û’ ڈسپنسروں Ú©Ùˆ پریکٹس Ú©ÛŒ اجازت دی ہے جس Ú©Û’ بارے میں مکمل طور پر اخبارات میں خبریں Ø¢ Ú†Ú©ÛŒ ہیں۔’ایم بی بی ایس ڈاکٹرز عوام سے تین سے چار سو روپے فیس Ú©ÛŒ مد میں وصول کر رہے ہیں جبکہ ہم سو روپے میں دوائی بھی دے دیتے ہیں۔’انہوں Ù†Û’ موٗقف اختیار کیا کہ دراصل ڈاکٹرز لوٹ مار میں مصروف ہیں اور ان Ú©ÛŒ نظر کسی Ú©ÛŒ صحت پر نہیں بلکہ اس Ú©ÛŒ جیب پر مرکوز ہے۔وہ بتاتے ہیں کہ محکمہ صحت Ú©Û’ ملازمی ان Ú©Û’ کلینک پر چھاپے مارتے ہیں لیکن اگر انہیں رشوت مل جائے تو وہ کوئی کاروائی نہیں کرتے۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر مشتاق بشیر عاکف کا کہنا ہے کہ دیسی اور ہومیو پیتھک ادویات میں ایلوپیتھک کا استعمال کرنے والے اور بغیر ڈگریوں Ú©Û’ کلینک چلانے والوں Ú©Ùˆ کسی صورت نہیں بخشا جائے گا۔انہوں Ù†Û’ موٗقف اختیار کیاکہ تحصیل چنیوٹ میں ڈرگ انسپکٹر Ú©ÛŒ پوسٹ خالی ہے جس وجہ سے ابھی یہاں کاروائی روکی ہوئی ہے تاہم جیسے ہی یہاں کوئی تعیناتی عمل میں لائی جائے Ú¯ÛŒ تو غیر قانونی کلینک سیل کرنے کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔

جنرل پوسٹ آفس چنیوٹ کی عمارت خستہ حالی کا شکار 2 ستمبر 2016

جنرل پوسٹ آفس چنیوٹ کی عمارت خستہ حالی کا شکار
 ستمبر 2016

سال 1970Ø¡ میں وفاقی حکومت Ú©ÛŒ جانب سے عوام Ú©ÛŒ سہولت Ú©Û’ لیے چنیوٹ شہر Ú©Û’ علاقہ محلہ لاہوری گیٹ میں تین کنال رقبہ پر جنرل پوسٹ آفس قائم کیا گیا تھا جو حکومتی عدم توجہ Ú©Û’ باعث بہت سے مسائل سے دوچار ہے۔پوسٹ آفس Ú©ÛŒ چھتوں اور دیواروں میں دراڑیں Ù¾Ú‘Ù†Û’ Ú©ÛŒ وجہ سے اس Ú©ÛŒ عمارت خستہ حالی کا شکار ہو Ú†Ú©ÛŒ ہے جو کسی بھی وقت حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔پوسٹ آفس میں اس وقت پچیس افراد پر مشتمل عملہ کام کر رہا ہے جن Ú©ÛŒ رہائش Ú©Û’ لیے پوسٹ آفس Ú©Û’ ساتھ ہی چار کوارٹرز بنائے گئے ہیں لیکن یہ بھی خستہ حالی کا شکار ہیں اور عملہ Ù†Û’ وہاں پر رہائش رکھنا بھی ترک کر دی ہے۔پوسٹ آفس Ú©Û’ پارک Ú©Û’ لیے مختص Ú†Ú¾ مرلے جگہ صفائی Ú©ÛŒ ناقص صورتحال Ú©ÛŒ وجہ سے گندگی Ú©Û’ ڈھیر میں تبدیل ہو Ú†Ú©ÛŒ ہے۔حمید خان محلہ شادی ملنگ Ú©Û’ رہائشی ہیں اور ڈاک بھجوانے Ú©Û’ لیے پوسٹ آفس میں موجود ہیں۔سی فوٹی سیون نیوز سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عمارت Ú©ÛŒ خستہ حالی Ú©Ùˆ دیکھ کر ڈر لگتا ہے کہ کہیں یہ عمارت ان Ú©Û’ اوپر نہ Ø¢ گرے۔محلہ معظم شاہ Ú©Û’ رہائشی غوث احمد کا کہنا ہے کہ ڈاک خانے میں لوگوں کا کافی رش رہتا ہے اس لیے کسی بھی حادثے Ú©ÛŒ صورت میں یہاں کافی نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔ان Ú©Û’ مطابق حکومت Ú©Ùˆ ڈاک خانے Ú©ÛŒ تعمیر اور تزئین Ùˆ آرائش کا کام فوری طور پر کرنا چاہیے تاکہ کسی بڑے حادثے سے بچا جا سکے۔محمد سلیم ریٹائرڈ فوجی ہیں اور پنشن Ú©Û’ حصول Ú©Û’ لیے یہاں موجود ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ پوسٹ آفس میں بیٹھنے Ú©Û’ لیے کوئی انتظام نہیں جس Ú©ÛŒ وجہ سے پنشن Ú©Û’ حصول Ú©Û’ دوران کئی کئی گھنٹے کھڑا رہنا پڑتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عمارت Ú©ÛŒ حالت زار دیکھتے ہوئے ہمیں تو یہاں آتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے کہ کہیں یہ ان Ú©Û’ اوپر نہ Ø¢ گرے۔جنرل پوسٹ آفس چنیوٹ میں کام کر رہے طاہر احمد کا کہنا ہے کہ وہ بائیس سال سے اس عمارت میں کام کر رہے ہیں لیکن اب یہاں کام کرنا کسی خطرے سے خالی نہیں ہے۔’بارشوں Ú©Û’ دنوں میں عمارت Ú©ÛŒ چھت ٹپکنے لگتی ہے جس Ú©ÛŒ وجہ سے اس Ú©Û’ گرنے کا خطرہ اور بڑھ جاتا ہے لہذہ حکومت اس معاملے پر خصوصی توجہ دے۔’ جنرل پوسٹ آفس چنیوٹ Ú©Û’ انچارج ہیڈ محمد ارشد گزشتہ ایک سال سے یہاں تعینات ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عمارت Ú©ÛŒ چھت کا لنٹر مکمل طور پر ناکارہ ہو چکا ہے اور اس میں جگہ جگہ دراڑیں Ù¾Ú‘ÛŒ ہوئی ہیں جبکہ رہائشی کوارٹر بھی رہنے Ú©Û’ قابل نہیں رہے ہیں۔’پوسٹ آفس میں یکم سے Ù„Û’ کر دس تاریخ تک پنشن وصول کرنے والے افراد کا زیادہ رش رہتا ہے لیکن ان Ú©Û’ بیٹھنے کا بھی کوئی خاص انتظام یہاں موجود نہیں ہے۔’وہ بتاتے ہیں کہ وہ کئی مرتبہ اپنے اعلیٰ افسران Ú©Ùˆ بلڈنگ Ú©ÛŒ عمارت Ú©Û’ متعلق تحریری طور پر آگاہ کر Ú†Ú©Û’ ہیں مگر اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔محکمہ بلڈنگ Ù¹ÛŒ ایم اے چنیوٹ Ú©Û’ تحصیل آفیسر اینڈ پلاننگ خالد مسعود Ù†Û’ بتایا کہ شہر بھر میں ستر سے زیادہ عمارتیں انتہائی بوسیدہ ہو Ú†Ú©ÛŒ ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے۔انہوں Ù†Û’ موٗقف اختیار کیا کہ ڈاک خانے Ú©ÛŒ چھت کسی بھی وقت گر سکتی ہے جس Ú©ÛŒ رپورٹ ایک سال قبل اعلیٰ حکام Ú©Ùˆ ارسال Ú©ÛŒ گئی تھی تاہم ابھی تک اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔

Burkini ban evokes a deadly past

Burkini ban evokes a deadly past 

Recently, pictures of French police ordering the removal of a burkini worn by a woman at a beach have gone viral on media. In a separate incident, a mosque construction in a Georgia county is facing strong opposition from locals.

To add insight, the caliph of Islam Mirza Masroor Ahmad (fifth supreme head of the Worldwide Ahmadiyya Muslim Community) has advised Western powers to choke off funding channels to ISIS to stop them in their tracks and defeat them once and for all. If only the intentions of world powers are pure and hellbent on stopping terrorism.

Banning burkinis and mosques is no solution, but an invitation for more division and religious apartheid. This in actuality is Déjà vu all over again, a reminder of a deadly past that Europeans suffered during World War II. But back then it was not the Muslims but rather Jews that suffered state-backed apartheid and persecution. We all know too well the consequences of that.

To conclude, it is sad to see the world is still divided and seeks to avenge the wrong people in this instance.

Nayyar Ahmed, Pittsburgh

iRabwah | News Watch |
Source/Credit: The Dallas Morning News

After successful APL 2016 Now APL under 19 just started

After successful APL 2016 Now APL under 19 just started 

This year after successful APL 2016 now its time for second mega event APL under 19. This event is organized by Aloom Block. There are five teams in this edition. They will play matches with each other. All matches will be held in Ghor Dur ground. Opening ceremony chief guest was Mr. Abbas Ahmad SB Naib Muhtamim Muqami. Nigran Block of Aloom B Block Waqar Ahmad Ghumman SB took this fruitful initiative for the betterment of youth. The first league was completed before Ramzan.

APL under 19







Few memories from APL 2016 

13315298_10153585678937967_4637717456532637024_n 13310480_10153585695092967_9110560775491440207_n 13327579_10153585679602967_7207387902590302604_n13321761_10153585684352967_5625480016475314805_n13327499_10153585679942967_1539752471850569082_n  13327542_10153585682162967_8817208292480660800_n  13332782_10153585684272967_8214720844709343746_n 13335544_10153585681612967_8107907302191354756_n 13335624_10153585685032967_1137304411336221906_n 13335967_10153585682417967_2176998542545938079_n 13339507_10153585684702967_9042163725655567588_n 13343025_10153585686162967_6430759760845378818_n 13346752_10153585691432967_6849250974668775081_n 13346945_10153585693712967_7755697150712558036_n 13346947_10153585685782967_4651700858341046944_n


On top of the cricket world!

On top of the cricket world!

Nothing succeeds like success, it is said. And it is said for a reason. With success we can simply shove everything else aside and push it under the rug. To bask in the glory of success — howsoever transient it may well be — is something that falls within the domain of acceptable human behaviour. Having said that, let’s enjoy for now being the Numero Uno Test side in the world. It sounds good. It does.

A bit too much had to happen around the world to make it possible for Pakistan, but now that it has all happened, there is no, absolutely no reason not to bask in the glory of the moment. For a team long deprived of home conditions, it is but a thing to rejoice. The only problem one can see cropping up out of this otherwise wonderful moment is that it might work as a lullaby to the ears of those running the show administratively when the fact of the matter is that Pakistan’s position as the top Test nation is not because of them; it is despite them being around.

The superficial, if not superfluous, interventions like the military boot camp and a merry-go-round involving fancy designations and the same old faces can’t take the team forward, but everyone will chip in with their acts of wonder (more perceived than actual), proving the maxim right that success has many fathers while defeat is an orphan.

To read more please click on below link

 Dawn News