ایگریکلچر ایڈوائزری کمیٹی فعال ہونے سے کسانوں کو کتنا فائدہ ہوگا؟

ڈی سی او چنیوٹ محمد ایوب خاں کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ایگریکلچر ایڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ ہوئی۔ جس میں ای ڈی او زراعت ڈاکٹر اعظم، ڈی او زراعت شاہد حسین، ڈی ایل او ڈاکٹر سجاد احمد، کسانوں سے وابستہ محکموں کے سربراہان، کسان، ڈیلر کھاد و زرعی ادویات اور میڈیا کے نمائندگان نے شرکت کی۔واضح رہے کہ حکومت پنجاب کی طرف سے یہ کمیٹی ہر ضلع میں کسانوں کے اشتراک سے بنائی ہے جس کا مقصد کسانوں کو درپیش مسائل کو حل کرنا ہے۔یہ کمیٹی محکمہ پولیس، ایگری کلچر، نیشنل بنک، زرعی ترقیاتی بنک، اری گیشن، واپڈا، کوآپریٹو ، لائیو سٹاک، ماہی گیری، جنگلات، پاسکو، واٹر مینجمنٹ، ڈیلر زرعی ادویات، فرٹیلائز کمپنیوں اور کسانوں کے ایک ایک نمائندے پر مشتمل ہوتی ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ ایک سال سے چنیوٹ میں یہ کمیٹی غیر فعال تھی تاہم اب اس کمیٹی کو دوبارہ سے فعال بنایا گیا ہے۔کسانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے تحصیل لالیاں کے میاں محمد رمضان کا کہنا تھا کہ ضلع بھر میں تین شوگر ملیں قائم ہیں جو گنے کی کرشنگ شروع ہوتے ہی اپنی مرضی کی کٹوتی کسانوں سے کرتی ہیں جس پر وہ احتجاج کرتے ہیں اور اس کے بدلے میں ان پر مقدمات درج کیے جاتے ہیں جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ضلع چنیوٹ سے اس وقت دو سیم نالے پہاڑنگ اور بھوآنہ گزر رہے ہیں جن سے آنے والا زہریلا پانی دریائے چناب اور اس Ú©Û’ اطراف Ú©ÛŒ تمام زمینوں Ú©Ùˆ بنجر کر چکا ہے اسی طرح دریا میں گرنے سے دریائے چناب Ú©ÛŒ مچھلیاں مر رہی ہیں اور پانی بھی گدلا ہو رہا ہے۔”یہ کمیٹی ان مالکان پر یہ دباؤ ڈال سکتی ہے کہ کروڑوں روپے ملوں پر خرچ کرنے والے چند لاکھ میں پانی فلٹریشن پلانٹ لگائیں تاکہ دریا تک پہنچنے سے پہلے پانی صاف ہو جائے۔”تحصیل چنیوٹ Ú©Û’ کسان مہر مقصود احمد کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب Ù†Û’ کسان پیکج سے کسانوں Ú©Ùˆ ریلیف فراہم کیا ہے لیکن اس Ú©Û’ اثرات عام کسان تک نہیں پہنچے۔”بجٹ میں حکومت Ù†Û’ زرعی ادویات سستی کرنے Ú©Û’ لیے ان پر عائد نو فیصد سیلز ٹیکس ختم کیا ہے لیکن چنیوٹ میں یہ ادویات سستی ہونے Ú©ÛŒ بجائے پہلے سے بھی مہنگی فروخت ہو رہی ہیں۔انہوں Ù†Û’ مؤقف اختیار کیا کہ ضلعی انتظامیہ Ú©ÛŒ طرف سے بنائی گئی اس کمیٹی کا کام کسانوں Ú©ÛŒ مدد کرنا تھا جو کہ نہیں ہو رہی اس لیے یہ کمیٹی برائے نام ہے۔ای ÚˆÛŒ او زراعت ڈاکٹر اعظم کا کہنا تھا کہ اس کمیٹی Ú©Û’ ذریعے تمام محکموں Ú©ÛŒ کارکردگی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔”کھادوں اور زرعی ادویات میں ملاوٹ کرنے والوں Ú©Û’ خلاف کاروائی کرنے والی ٹاسک فورس Ú©ÛŒ ضلع بھر میں مجموعی کارکردگی Ú©Ùˆ جانچا جا رہا ہے۔”انہوں Ù†Û’ بتایا کہ محکمہ زراعت کا کام سیمپل کرنا ہے اور معیاری رزلٹ نا آنے Ú©ÛŒ صورت میں پولیس میں مقدمات درج کروانا ہے لیکن ان Ú©Û’ بہتر چالان بنانا پولیس کا کام ہے۔”محمے Ú©ÛŒ جانب سے ابھ تک ضلع چنیوٹ میں Ú†Ú¾ افراد Ú©Û’ خلاف مقدمات درج کروائے گئے ہیں جن Ú©Û’ مقدمات اس وقت عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔”ÚˆÛŒ سی او محمد ایوب خان بلوچ کا کہنا تھا کہ ان کمیٹیوں Ú©ÛŒ میٹنگ کا اصل مقصد یہ ہے کہ کسانوں Ú©Û’ مسائل Ú©Ùˆ کسان اجاگر کریں Ú¯Û’ اور دیگر ممبران اس Ú©Ùˆ مل کر حل کریں Ú¯Û’ اس لیے اب ہر مہینے دو بار اس کا اجلاس ہوا کرے گا۔”ضلعی انتظامیہ آئندہ اجلاس میں کسانوں سے مختلف روڈز Ú©ÛŒ صورت حال پر بحث کرے Ú¯ÛŒ اور ان Ú©ÛŒ طرف سے جو سڑکیں بتائی جائیں Ú¯ÛŒ ان Ú©Ùˆ Ú¯Ù†Û’ Ú©ÛŒ کرشنگ شروع ہونے سے پہلے لازمی مکمل کیا جائے گا تاکہ کسان شوگر ملوں تک آسانی سے Ú¯Ù†Û’ Ú©Ùˆ پہنچا سکیں۔”انہوں Ù†Û’ مؤقف اختیار کیا کہ آئندہ اس میٹنگ میں زیادہ سے زیادہ کسانوں Ú©ÛŒ نمائندگی Ú©Ùˆ شامل کیا جائے گا تاکہ پتا لگایا جا سکے کہ حکومتی محکمے ان کسانوں Ú©Ùˆ ملنے والے ریلیف میں کس حد تک مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔